‏سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام: - 25 ستمبر 2025

.


 ‏سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام

“میرے خلاف بنائے گئے جھوٹے کیسز کے ٹرائل بھی کسی قانون یا رول کے مطابق نہیں چلائے جاتے۔ گزشتہ دو سماعتوں سے، جب سے نام نہاد وٹس ایپ ٹرائیل کا آغاز کیا گیا ہے نہ تو مجھے کاروائی کی کوئی آواز پہنچتی ہے نہ ہی میرے وکلاء تک میری کوئی بات پہنچ پاتی ہے اور نہ ہی مجھے جج اور وکلأ نظر آتے ہیں۔ کئی گواہوں کے بیانات میری غیرموجودگی میں کر لیے گئے ہیں، ایسے ماحول میں شفاف ٹرائل کیسے ممکن ہے؟ یہ میرا قانونی حق ہے کہ میری موجودگی میں ٹرائل چلایا جائے۔


نو مئی کے کیسز میں ان کے پاس دو ہی جھوٹے سرکاری گواہ ہیں جنہیں ہر کیس میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ سرگودھا کی دہشتگردی عدالت کے جج محمد عباس نے ان دونوں کے جھوٹا ثابت ہونے پر ان کی مضحکہ خیز گواہی بالکل ہی رد کر دی تھی، لیکن پھر بھی ہر جگہ انھیں جھوٹی گواہی کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے۔


 چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دی گئی درخواست کا “آئینی بینچ” کے سامنے ہی لگنا مضحکہ خیز ہے۔ جو بینچ خود اس ترمیم کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے وہ اس کے خلاف کیا ہی فیصلہ دے گا؟


چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ مکمل طور پر غلام بن چکی ہے اور اس کی حیثیت ایک سرکاری ادارے سے بڑھ کر نہیں رہی۔ چھبیسویں آئینی ترمیم آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت پر حملہ ہے۔


بوگس انتخابات کے نتیجے میں وجود پانے والی فراڈ حکومت کے دور میں ہر جانب تباہی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری صفر ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام معیشت سے مایوس ہو کر تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہی ہے مگر قابض حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔


میں بار ہا کہہ رہا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ہمارے دور میں افغانستان سے تعلقات بھی بہتر تھے اور قبائلی علاقوں میں امن بھی تھا۔ آپریشن سے جو collatoral damage کے نام پر معصوم جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اس سے دہشتگردی کو ہوا ملتی ہے۔ مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت کرنے میں ہے۔ ملٹری آپریشنز کبھی عوام کا مفاد نہیں ہوتا۔


مجھے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کو مکمل قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور جیل مینیول کے مطابق ہماری ملاقات بھی نہیں کروائی جاتی۔ میری صحت ماشأللہ ٹھیک ہے مگر 72 سال کی عمر میں میرے جو روٹین ٹیسٹ ہوتے رہنے چاہئیں وہ نہیں کروائے جاتے اور میرے ذاتی ڈاکٹر کو بھی چیک اپ کی اجازت نہیں دی جاتی۔ آخری مرتبہ میرے میڈیکل ٹیسٹ ایک سال قبل کروائے گئے تھے جو کہ جیل مینول کی خلاف ورزی ہے۔”