ججز تبادلہ و سنیارٹی کیس

.

 ججز تبادلہ و سنیارٹی کیس

اسلام آباد ہائیکورٹ ججز سینیارٹی اور تبادلے کے خلاف درخواستوں پر سماعت جمعہ تک ملتوی

ججز کا ٹرانسفر مستقل نہیں عبوری ہوتا ہے۔یہ اپنی نوعیت کا منفرد مقدمہ ہے،اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو طرح کے ججز ہیں،تبادلہ پر آئے ججز کو اضافی الاونسز ملتے ہیں۔عمران خان وکیل ادریش اشرف
میری رائے میں تو تبادلہ پر آئے ججز کو کوئی اضافی الاونس نہیں ملتا جسٹس محمد علی مظہر تبادلہ پر آئے ججز کو کیا الاوسز ملتے ہیں۔اگر ملتا ہے تو دکھا دیں۔جسٹس محمد علی مظہر
کیا آئین سازوں کو معیاد دوبارہ شامل کرنے پر مجبور کر سکتے ہین۔ماضی میں تبادلہ کی معیاد کیا
تھی،18 ترمیم میں معیاد کو نکال دیا گیا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر
بھارت کو میں جج کے تبادلہ پر رضامندی بھی نہیں لی جاتی۔جسٹس محمد علی مظہر دو سال سے کم تبادلہ ہو تو رضامندی ضروری نہیں۔قانون کے مطابو خالی سیٹ تقرری کی جا سکتی ہے۔وکیل اریس اشرف
جب جج کی ویکنسی خالی نہیں ہو گی تو جج کا تبادلہ کیسے ہوگا۔اب تو جج تقرری کا اختیار جوڈیشل کمیشن کا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر
ججز کی تعیناتی کا اب طریقہ کار تبدیل ہو گیا ہے،چیف جسٹس کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے،پہلے جیسے سپریم کورٹ سے ججز کے نام جاتے تھے اب وہ سسٹم تبدیل ہو گیا ہے،جسٹس محمد علی مظہر
جب ججز کی ویکنسی خالی ہوں تو ججز کا ٹرانسفر نہیں ہو سکتا،ججز کی تین اقسام ہیں،مستقل،ایڈیشنل اور ٹرانسفر ججز ہیں،سب کا طریقہ کار ہوتا ہے،عمران خان وکیل ادریس اشرف
ٹرانسفر ججز کی تعیناتی کی کوئی مدت نہیں ہوتی،جسٹس محمد علی مظہر
مدت کا تعین کرنا اسمبلی کا کام ہے ہمارا نہیں،ہم آئین کو دوبارہ سے نہیں لکھ سکتے،جسٹس محمد علی مظہر آپ آئین کی وضاحت تو کر سکتے ہیں،بانی پی ٹی آئی وکیل آئین کے آرٹیکل 200 میں کہاں پر لکھا ہے کہ ویکنسی خالی ہو تو جج کا ٹرانسفر نہیں ہو سکتا،جسٹس محمد علی مظہر

اس کیس میں سینیارٹی کا مسلئہ سینٹر ایشو ہے،ٹرانسفر ہوئے ججز کی سینیارٹی سب سے نیچے سے شروع ہونی چاہیے،فیصل صدیقی ٹرانسفر ہوئے دو ججز سینیارٹی لسٹ میں سب سے نیچے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر

جسٹس سرفراز ڈوگر 8 جون 2015 کو ایڈیشنل جج بنے تھے،جسٹس سومرو نے 14 اپریل 2023 کو حلف لیا تھا، فیصل صدیقی

جسٹس محمد آصف کا کیس بڑا دلچسپ ہے،جسٹس محمد آصف نے 20 جنوری 2025 کو حلف لیا تھا،جسٹس محمد آصف اس وقت تک ایڈیشنل جج ہیں، فیصل صدیقی

جسٹس محسن اختر کیانی کا بتائیے انہوں نے کب حلف لیا ، جسٹس شاہد بلال جسٹس محسن اختر کیانی نے 22 دسمبر 2015 کو حلف لیا تھا،فیصل صدیقی

چیف جسٹس آف پاکستان سے سینیارٹی کا معاملہ ڈسکس ہی نہیں کیا گیا،ریکارڈ یہ بتا رہا ہے کہ چیف جسٹس سے سینیارٹی کا معاملہ چھپایا گیا، فیصل صدیقی

جسٹس شاہد بلال حسن کا عمران خان کی درخواست پر اعتراض درخواست کا پیراگراف نمبر چار پڑھیں آپ نے لکھا کیا ہے،کیا ملکی تاریخ میں کسی سیاسی لیڈر نے کبھی ایسی درخواست دائر کی ہے؟ جسٹس شاہد بلال

درخواست میں کہا گیا ہے کہ دبائو قبول نہ کرنے پر ججز کو نشانہ بنایا گیا،یہ بھی لکھا ہے کہ عمران خان کو ریلیف دینے پر ججز کو نشانہ بنایا گیا،ادریس اشرف میرا دل تو اس درخواست کو جرمانے کیساتھ خارج کرنے کا ہے،درخواست قابل سماعت ہونے یا جرمانہ کرنے کی طرف نہیں جا رہا،جسٹس شاہد بلال

اس قسم کی درخواست سے تو ہائیکورٹ ججز کو بھی شرمندہ کیا گیا ہے،ججز نے تو نہیں کہا کہ عمران خان کے فیصلے کرنے پر انہیں نشانہ بنایا گیا،جسٹس محمد علی مظہر میرے حوالے سے یہ الفاظ استعمال ہوتے تو مجھے بھی شرمندگی ہوتی،جسٹس محمد علی مظہر

عمران خان کی درخواست میں سینئر وکیل شعیب شاہین ہیں، میں نے راجہ مقسط کی جانب سے دائر درخواست لکھی ہے، ادریس اشرف میری تحریر کردہ درخواست میں ایسے الفاظ کا استعمال نہیں کیا گیا، ادریس اشرف میرا خیال ہے آپ دلائل مکمل کر چکے ہیں، جسٹس صلاح الدین پنور

اسلام آباد ہائیکورٹ ججز سینیارٹی اور تبادلے کے خلاف درخواستوں پر سماعت جمعہ تک ملتوی کراچی بار کے وکیل فیصل صدیقی دلائل جاری رکھیں گے