‏علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو

.

 ‏

علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو

آج اڈیالہ میں عمران خان کے خلاف توشہ خانہ 2 کیس سماعت ہوئی


میری بہن عظمی اور نورین کو اجازت دی


عمران خان نے احتجاج کیا کہ یہ کس قسم کا کورٹ ہے کہ میری فیملی کو روک دیتے ہیں


عمران خان نے وکیل کے زرہعے اپنا پیغام بھیجا ہے


تین مہینے ہوچکے ہیں 190 ملین پاونڈ ریفرنس کی ضمانتوں کے پیچھے پھر رہے ہیں


اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور کے مقدمات سن لیں تو آج عمران خان رہا ہوسکتے ہیں


عمران خان نے پیغام بھیجا ہے، عاصم منیر فیلڈ مارشل بنے ہیں بہتر ہوتا کہ بادشاہ سلامت کا ٹائٹل لے لیتے


جمہوریت رول اف لا اور اخلاقیات پر چلتی ہیں


انھوں نے کہا آج اس کا نمونہ دیکھ سکتے ہیں ہمارے مقدمات سنے نہیں جاتے


یہ ایسے ناجائز مقدمات ہیں اگر کسی اور جمہوریت میں ہوتے تو بنانے والے جیل میں ہوتے


اخلاقیات کا بانی کہہ رہے تھے زرداری کا کیس نیب میں ہے کوئی نہءں سنا رہا


شہباز شریف پر 22 ارب کا کیس تھا اس کو وزیراعظم بنادیا


ڈرون حملوں پر عمران خان کو بتایا جس پر انھوں نے سخت مذمت کی


عمران خان 2011 سے ڈرون حملوں کی مذمت کرتے رہے ان کی محنت سے بین الاقوامی ڈرونز بند ہوئے


جن کے گھروں پر ڈرونز ماریں گے اور بچے مریں گے تو اس سے دہشتگردی بڑھتی ہے


ہمارے ملک میں ڈرون حملے ہمارے اپنے لوگوں نے کیے ہیں


انھوں نے ہدایت دی ہے کے پی حکومت نہ صرف مذمت کرے بلکہ اس کو فوری رکوایا جائے


مزاکرات کی بات کی ہے، مودی زخمی ہے اس کی بے عزتی ہوئی ہے


وہ بدلا لینے آئے گا، بانی کو خدشات ہیں


اس لیے انھوں نے ملک کی بہتری کے لیے کہا اسٹیبلشمینٹ آئے مجھ سے بات کرے


دشمن کے لیے ہمیں متحد ہونا ہوگا، معیشییت کی بہتری کے لیے اسٹیبلشمینٹ بانی سے بات کرے، علیمہ خان


عمران خان نے قانون کی شق 13 کے زریعے پولی گرافک ٹیسٹ سے آج بھی انکار کردیا ہے