عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (14 اکتوبر، 2025)

.

 


‏"خیبر پختونخوا حکومت میں تبدیلی کا عمل احسن طریقے سے مکمل ہونے پر اپنے تمام ممبران اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ خیبرپختونخوا کے اراکین نے جس طرح نظرئیے پر ڈٹ کر، بنا کسی اگر مگر کے میرے نامزد کردہ وزیر اعلیٰ کو ووٹ دئیے ہیں، وہ قابلِ ستائش ہے۔ میں علی امین گنڈاپور کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بغیر کسی تردد کے ایک نہیں تین مرتبہ استعفیٰ دیا۔ یہ ہموار ٹرانزیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے نظرئیے کا بول بالا ہے۔ 


سہیل آفریدی کو خصوصی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ میرا اوپننگ بیٹسمین ہے لہٰذا اسے کھل کر کھیلنا چاہیئے۔


پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس سے منسلک لوگوں کو صرف اس لیے غدار کہہ دینا کہ وہ کسی پالیسی سے متفق نہیں انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اس بنیاد پر غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے اور ریاست مخالفت کا لیبل لگانے والوں کی دکان بند ہونی چاہیے۔

بطور سیاستدان ایسی کسی بھی پالیسی پر تنقید کرنا میرا حق ہے جو عوام کے مفاد ، ملکی سالمیت اور جمہوریت کے خلاف ہو۔ ایسی ہر پالیسی کی مخالفت کی ہے اور کرتا رہوں گا جو ملکی مفاد کے خلاف ہو۔خیبرپختونخوا میں عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے اور ہم ڈی جی آئی ایس پی آر کو نہیں خیبرپختونخوا کی عوام کو جوابدہ ہیں۔ اس لیے ہم پاکستان اور صوبے کی عوام کے مفاد کے خلاف کبھی نہیں جائیں گے۔


میری فوج سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ فوج بھی میری ہے، ملک بھی میرا ہے اور عوام بھی میری ہے۔ میرے اپنے خاندان کے کئی لوگ فوج سے تعلق رکھتے ہیں- 1965 کی جنگ میں ہمارے زمان پارک کے 8 میں سے 7 گھروں سے میرے خاندان کے لوگ فوج میں تھے اور ملک کا دفاع کر رہے تھے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے جب دہشتگردی کی جنگ میں فوج کے سپاہیوں کا خون بہتا ہے مگر اس کے باوجود بد امنی قائم رہتی ہے اور دونوں طرف ہمارے لوگ مارے جاتے ہیں۔


تاریخ سے ثابت ہے کہ صرف ملٹری آپریشنز دہشتگردی کا حل نہیں ہیں۔ ہمارا اصولی موقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں ملٹری آپریشنز قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ اس میں “کولیٹرل ڈیمج” کے نام پر معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں، اور وہ اپنے علاقوں سے دربدر ہوتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے بڑے بڑے آپریشن کر کے دہشتگردی ختم کرنے کی کوشش میں ہیں مگر یہ ناسور ختم نہیں ہو رہا۔ ہر سال بہت سا قیمتی خون بہہ رہا ہے، کبھی فوج اور پولیس فورسز کے اہلکاروں کی شہادتیں ہوتی ہیں تو کبھی معصوم شہری دہشتگردی کے واقعات میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ 


ہمیشہ کہا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے بند کمروں کے فیصلوں کی بجائے ایک موثر، سیاسی بصیرت پر مبنی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سیاسی نمائندوں اور خیبرپختونخوا حکومت کی موجودگی اور مشاورت کے بغیر بنائی گئی کوئی بھی پالیسی قابل قبول نہیں۔ دہشتگردی کے خلاف پالیسی بناتے ہوئے تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے بات کی جائے چاہے وہ مقامی قبائل ہوں یا خیبرپختونخوا حکومت، وفاقی حکومت یا افغان حکومت۔ افغانستان کے ساتھ بات چیت کے بغیر دہشتگردی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔


خیبرپختونخوا کی نئی حکومت کو ایک مرتبہ پھر سے ہدایت کرتا ہوں کہ دہشتگردی کے خلاف تمام فریقین کے ساتھ بات کر کے موثر اور جامع حکمت عملی بنائیں تاکہ صوبے میں موثر اور دیرپا امن قائم ہو اور نتیجتاً معیشت بحال ہو۔


ہر جمہوری معاشرے میں عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہوتا ہے۔ نہتے لوگوں پر تشدد کرنا اور سیدھی گولیاں چلانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ تحریک لبیک کے ساتھ جو ظلم ہوا، تحریک انصاف تین سال سے یہی ظلم برداشت کر رہی ہے۔ 26 نومبر کو ڈی چوک میں بھی ایسے ہی خون کی ہولی کھیلی گئی جب ہمارے نہتے کارکنان پر سنائپرز سے گولیاں چلوائی گئیں۔ میں مریدکے سانحے میں بیہمانہ تشدد اور نہتی عوام کو گولیاں مارنے کی پر زور مذمت کرتا ہوں”