عمران خان کا اڈیالہ جیل سے خصوصی پیغام (16 اکتوبر 2025)

.

 


‏“میں سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ بننے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ سہیل آفریدی میرے آئی ایس ایف کے دیرینہ اور وفادار ساتھیوں میں سے ہیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ وہ توقعات اور تحریک انصاف کے نظرئیے کے عین مطابق، بحیثیت چیف منسٹر خیبرپختونخوا میں انقلابی کام کریں گے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس موقع پر علی امین گنڈا پور نے نہایت باوقار طریقے سے حکومت کی منتقلی یقینی بنائی


میں گزشتہ دو سال میں ہونے والے قتلِ عام کے چار بڑے واقعات جن میں 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے قتلِ عام شامل ہیں، پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ دہراتا ہوں۔ ان تمام واقعات میں بڑی تعداد میں نہتے شہریوں کو شہید کیا گیا۔ 


9 مئی فالس فلیگ کے حوالے سے میرا شروع سے یہی موقف ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کی جائے اور آزادانہ و شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔ جس پر افسوس ہے کہ کوئی عملدرآمد نہیں ہوا بلکہ الٹا متاثرہ فریق کیخلاف ہی جھوٹے مقدمات بنا کر بغیر شفاف تحقیقات اور ثبوت کے ملٹری کورٹس اور کینگرو کورٹس سے 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ حالانکہ اس دن نہتے شہریوں اور سپورٹرز کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا- 


قتلِ عام کی یہی واردات 26 نومبر کو دہرائی گئی جب نہتے پرامن مظاہرین پر سیدھی گولیاں برسائی گئیں۔ اگر 9 مئی کے حقائق سامنے آجاتے تو 26 نومبر اور اس جیسے واقعات نا ہوتے۔ پھر آزاد کشمیر اور اب مریدکے میں مظاہرین کو ریاستی بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کا قیام ناگزیر ہے تاکہ مظلوموں کو انصاف مل سکے اور قتلِ عام کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔


اگر اب کی بار نہتے شہریوں کے قتلِ عام پر جوڈیشل کمیشن بنا کر شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو خدانخواستہ اگلا واقعہ اس سے بھی بڑا ہوگا کیونکہ ظلم و بربریت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔


نماز جمعہ کے بعد خیبرپختونخوا میں ہمارے تمام کارکنان اور عوام مریدکے قتلِ عام کیخلاف نکلیں اور چاروں واقعات کے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کریں۔ 


آج ملک میں سب کچھ عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے- ساری عدالتیں فوجی عدالتوں میں بدل چکی ہیں، جیسے فوجی عدالتوں کو چلایا جاتا ہے ویسے ہی عام عدالتوں کو بھی چلایا جا رہا ہے۔


26ویں غیر آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں سے انصاف کی توقع تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ملک میں بڑھتی لاقانونیت اور ناانصافی اسی ترمیم کا نتیجہ ہے- جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس امین الدین، جج عامر فاروق، اور جج ڈوگر سب کے پاس ہمارے کیسز اور پٹیشن گئیں مگر کہیں سے انصاف نہیں ملا۔ 


عاصم منیر، قاضی فائز عیسٰی اور سکندر سلطان راجہ نے ہمارا مینڈیٹ چوری کر کے فارم 47 کی نااہل اور ناجائز حکومت پاکستان پر مسلط کی جن کے پاس پاکستان کو درپیش مسائل سے نکالنے کا نہ ہی کوئی وژن ہے، نہ اہلیت ہے اور نہ ہی کوئی اختیار۔ ان کی دہشتگردی کے مسئلے، امن کے قیام اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی اپنی کوئی سوچ اور پالیسی نہیں ہے-


تاریخ سے ثابت ہے کہ ملٹری ڈکٹیٹرز کا صرف بندوق کے زور پر ہر چیز کا حل نکالنے کا فارمولہ کبھی دیرپا اور کامیاب ثابت نہیں ہوا۔ افغانستان کے ساتھ مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہے۔ لہذا یہ سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملہ فہمی سے ملک میں دیرپا امن کا قیام یقینی بنائیں۔ فارم 47 کی جعلی حکومت کا نہ ہی استحقاق ہے اور نہ اہلیت کہ وہ قیامِ امن میں مؤثر کردار ادا کرسکے۔ ہمارے دور میں دہشتگردی کم ترین سطح پر آ گئی تھی۔ مجھے پیرول پر رہا کیا جائے تو میں افغانستان سے تنازعات کے حل اور قیامِ امن کیلئے اپنا کردار ادا کرسکتا ہوں” 


سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے خصوصی پیغام (16 اکتوبر 2025)