حافظ نعیم الرحمٰن کے عمران خان سے متعلق ریمارکس پر پاکستان تحریک انصاف کا ردعمل:
ریموٹ کنٹرول سیاستدانوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف حافظ نعیم الرحمٰن کے حالیہ بیان کو مضحکہ خیز، بد نیتی پر مبنی اور اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی کی ایک اور کوشش قرار دیتی ہے۔
حافظ نعیم جیل میں قید ایک عوامی لیڈر کے ایمان، غیرت اور جذبۂ فلسطین پر تبصرہ کر رہے ہیں یہ ان کی سیاسی بدنیتی اور فکری غلامی کی انتہا ہے۔
چند ماہ قبل حافظ نعیم خود فلسطین مارچ کے سلسلے میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے ملے تھے اور تحریکِ انصاف نے اُس وقت جماعتِ اسلامی کے مارچ کی غیر مشروط حمایت اور بھرپور شرکت کی تھی۔
عمران خان وہ واحد پاکستانی رہنما ہیں جنہوں نے اسرائیل اور مقامی غلام حکمرانوں کے خلاف ہمیشہ دوٹوک موقف اپنایا۔
جتنا واضح اور جرات مندانہ مؤقف عمران خان کا فلسطین پر ہے، اتنا کسی اور سیاستدان کا نہیں رہا۔
تحریکِ انصاف کے جاری بیانات دراصل عمران خان ہی کے مؤقف کی ترجمانی کرتے ہیں۔
حافظ نعیم صاحب!
کیا آپ کو سینیٹر مشتاق احمد کے لیے بولنے کی اجازت نہیں ملی؟
جو اسرائیلی قید میں ہیں، اُن کے لیے آپ کی زبان کیوں بند ہے؟
کیا اُن کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے “ہدایات” موصول نہیں ہوئیں؟
نواز شریف کی خاموشی پر بھی کبھی سوال کر لیجیے، یا وہ موضوع اجازت نامے سے باہر ہے؟
قوم جانتی ہے کہ ریموٹ کنٹرول سیاستدان کب، کہاں اور کس کے اشارے پر بولتے ہیں۔
لہٰذا حافظ نعیم اداروں کی خدمت جاری رکھیں، مگر اُس رہنما پر زبان نہ چلائیں جو قوم کے ضمیر، حریت اور خودداری کی علامت بن چکا ہے۔
منجانب:
مرکزی شعبہ اطلاعات
پاکستان تحریکِ انصاف
